کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

مجید اختر

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

مجید اختر

MORE BYمجید اختر

    کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

    ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

    نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری

    مرے عزیز نہ اس کو کبھی قضا کیا کر

    اجالے کے لئے ہے چشم و دل کا آئینہ

    بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر

    بنام مذہب و ملت یہ خوں بہانا کیا

    ہری ہری وہ کریں تو خدا خدا کیا کر

    بجا سہی یہ حیا اور یہ احتیاط مگر

    کبھی کبھی تو محبت میں حوصلہ کیا کر

    نظر میں رکھ مرے اظہار کی ضرورت کو

    کبھی تو نون کا اعلان بھی روا کیا کر

    وہ عیب ڈھکتا ہے تیرے سبھی مجید اخترؔ

    سو تو بھی درگزر احباب کی خطا کیا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY