کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

مشتاق نقوی

کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

مشتاق نقوی

MORE BYمشتاق نقوی

    کرم میں ہے نہ ستم میں نہ التفات میں ہے

    جو بات تیری نگاہوں کی احتیاط میں ہے

    کچھ اس طرح سے چلے جا رہے ہیں کانٹوں پر

    کہ جیسے ہاتھ ہمارا تمہارے ہاتھ میں ہے

    دیئے جلے ہیں سجی جا رہی ہے کل کی دلہن

    عجیب حسن غم زندگی کی رات میں ہے

    کھڑی ہے سیل حوادث کے درمیاں اب تک

    بڑا ثبات مری عمر بے ثبات میں ہے

    نہ کوئی دوست کسی کا نہ کوئی دشمن ہے

    ہمارا دوست و دشمن ہماری ذات میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY