کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش

باصر سلطان کاظمی

کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش

باصر سلطان کاظمی

MORE BYباصر سلطان کاظمی

    کرتے رہے کر سکتے تھے ہم جتنی بھی کوشش

    دیوار تعصب میں کہاں ہونی تھی جنبش

    زنداں کی سلاخوں سی ہیں پانی کی یہ تاریں

    صیاد سے کچھ کم نہیں ہر وقت کی بارش

    لازم نہیں پیدل چلوں یا دوڑ لگاؤں

    ہیں گھر کے مرے کام ہی اچھی بھلی ورزش

    مانا کہ علاج اس کے سوا کچھ نہیں لیکن

    کیا دل کے بدلنے سے بدل جائے گی خواہش

    کوتاہیاں اپنی تو دکھائی نہیں دیتیں

    ہر بات میں آتی ہے نظر غیر کی سازش

    کچھ سنگ گراں مایہ ہمیں بھی ملے باصرؔ

    سچ ہے کہ اکارت نہیں جاتی کوئی کاوش

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY