کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

امام بخش ناسخ

کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

امام بخش ناسخ

MORE BYامام بخش ناسخ

    کرتی ہے مجھے قتل مرے یار کی رفتار

    تلوار کی تلوار ہے رفتار کی رفتار

    کج ایسی نہ تھی آگے مرے یار کی رفتار

    سیکھا ہے مگر چرخ ستم گار کی رفتار

    سر گرتے ہیں کٹ کٹ کے وہ رکھتا ہے جہاں پاؤں

    سیکھی ہے مگر یار نے تلوار کی رفتار

    گردش ہے تری نرگس بیمار کو دن رات

    دیکھی نہیں ایسی کسی بیمار کی رفتار

    ٹلتی نہیں زلفوں کے تصور کی طرح سے

    ہے طرفہ جدائی کی شب تار کی رفتار

    لغزش نہ ہو کیوں کر رہ دیں میں مجھے زاہد

    یاد آ گئی اس کافر مے خوار کی رفتار

    ظالم ترے کوچے سے قدم اٹھ نہیں سکتا

    کیوں کر نہ چلوں سایۂ دیوار کی رفتار

    کیا مار کو نسبت ترے گیسو کے چلن سے

    ہے سایۂ گیسو میں صنم مار کی رفتار

    موتی عوض نقش قدم گرتے ہیں ناسخؔ

    ایسی ہے مری کلک گہر بار کی رفتار

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY