کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

مخمور سعیدی

کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

مخمور سعیدی

MORE BYمخمور سعیدی

    کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے

    ترا خیال کہ برسوں کے بعد آیا ہے

    کسی نے کیوں مرے قدموں تلے بچھایا ہے

    وہ راستہ کہ کہیں دھوپ ہے نہ سایا ہے

    ڈگر ڈگر وہی گلیاں چلی ہیں ساتھ مرے

    قدم قدم پہ ترا شہر یاد آیا ہے

    بتا رہی ہے یہ شدت اجاڑ موسم کی

    شگفت گل کا زمانہ قریب آیا ہے

    ہوائے شب سے کہو آئے پھر بجھانے کو

    چراغ ہم نے سر شام پھر جلایا ہے

    کہو یہ ڈوبتے تاروں سے دو گھڑی رک جائیں

    نشان گم شدگاں مدتوں میں پایا ہے

    بس اب یہ پیاس کا صحرا عبور کر جاؤ

    ندی نے پھر تمہیں اپنی طرف بلایا ہے

    فسون خواب تماشا کہ ٹوٹتا جائے

    میں سو رہا تھا یہ کس نے مجھے جگایا ہے

    سلگ اٹھے ہیں شرارے بدن میں کیوں مخمورؔ

    خنک ہوا نے جو بڑھ کر گلے لگایا ہے

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    کسک پرانے زمانے کی ساتھ لایا ہے نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY