کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی

احمد فراز

کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی

    بگڑ گیا ہوں کہ صورت یہی بناؤ کی تھی

    وہ جس گھمنڈ سے بچھڑا گلہ تو اس کا ہے

    کہ ساری بات محبت میں رکھ رکھاؤ کی تھی

    وہ مجھ سے پیار نہ کرتا تو اور کیا کرتا

    کہ دشمنی میں بھی شدت اسی لگاؤ کی تھی

    مگر یہ درد طلب بھی سراب ہی نکلا

    وفا کی لہر بھی جذبات کے بہاؤ کی تھی

    اکیلے پار اتر کر یہ ناخدا نے کہا

    مسافرو یہی قسمت شکستہ ناؤ کی تھی

    چراغ جاں کو کہاں تک بچا کے ہم رکھتے

    ہوا بھی تیز تھی منزل بھی چل چلاؤ کی تھی

    میں زندگی سے نبرد آزما رہا ہوں فرازؔ

    میں جانتا تھا یہی راہ اک بچاؤ کی تھی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق,

    نعمان شوق

    کشیدہ سر سے توقع عبث جھکاؤ کی تھی نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY