کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

پیرزادہ قاسم

کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    INTERESTING FACT

    یہ غزل مشہور شاعر جون ایلیا کے لئے ان کی محبوب بحر میں کہی گئی۔ جس میں ان کی کچھ گوشوں کی طرف اشارہ ہے ۔

    کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا

    جیسے سبھی گزر گئے جونؔ بھی کل گزر گیا

    اس کا چراغ وصل تو ہجر سے رابطے میں تھا

    وہ بھی نہ جل سکا ادھر یہ بھی ادھر بکھر گیا

    زیست کی رونقیں تمام اس کی تلاش میں رہیں

    اور وہ غم نژاد جونؔ کس کو خبر کدھر گیا

    گام بہ گام اک بہشت اور وہ اس کی ایک ہشت

    راہ میں بھی رکا نہیں اور نہ اپنے گھر گیا

    رسم سپردگی کو کب درخور اعتنا کہا

    خود سے جو تھا گریز پا سب سے گریز کر گیا

    اس کے سخن کا معجزہ اس کی نہیں میں دیکھیے

    ہاں بھی ہے ماجرا مگر جونؔ کہاں ادھر گیا

    اس کو تھا سخت اختلاف زیست کے متن سے سو وہ

    بر سر حاشیہ رہا اور کمال کر گیا

    اس کے خیال کی نمود عہد بہ عہد جاوداں

    بس یہ کہو کہ جونؔ ہے یہ نہ کہو کہ مر گیا

    RECITATIONS

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    کون گماں یقیں بنا کون سا گھاؤ بھر گیا پیرزادہ قاسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY