کون سکھ چین سے ہے کس کی پذیرائی ہے

عامر سوقی

کون سکھ چین سے ہے کس کی پذیرائی ہے

عامر سوقی

MORE BYعامر سوقی

    کون سکھ چین سے ہے کس کی پذیرائی ہے

    تیری دنیا میں ہر اک موڑ پہ رسوائی ہے

    جھیل سی آنکھیں تری اور گلابی ترے ہونٹ

    میری چاہت کے ہی صدقے میں یہ رعنائی ہے

    میں جو چپ چاپ سا بیٹھا ہوں تری محفل میں

    یہ مرا شوق نہیں ضربت تنہائی ہے

    گھر میں گھٹ گھٹ کے ہی مر جاتے ہیں بیمار غریب

    اب شفا خانے میں اس اوج پہ مہنگائی ہے

    میں سمندر تو نہیں ادنیٰ سا شاعر ہوں مگر

    دریا سے بڑھ کے مرے شعر میں گہرائی ہے

    جان کر بھی نہیں پہچانتے ہیں شوقیؔ لوگ

    تیری بستی میں عجب طرز شناسائی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY