کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے

میر محمدی بیدار

کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے

میر محمدی بیدار

MORE BYمیر محمدی بیدار

    کون یاں بازار خوبی میں ترا ہم سنگ ہے

    حسن کے میزاں میں تیرے مہر و مہ پاسنگ ہے

    میں وہ ہوں دیوانۂ سرخیل ارباب جنوں

    ہاتھ میں پتھر لیے ہر طفل میرے سنگ ہے

    جائے تکیہ عاشق بے خانماں کو وقت خواب

    زیر سر کوچہ میں تیرے خشت ہے پاسنگ ہے

    اس جواہر پوش کے دیکھے ہیں وہ یاقوت لب

    جس کی رنگینی کے آگے لعل بھی اک سنگ ہے

    سرمئی آنکھوں کا تیرے جو کوئی بیمار ہو

    ایک میل اس کے تئیں رکھنا قدم فرسنگ ہے

    جل گیا تنہا نہ کوہ طور ہی پروانہ وار

    آگ تیرے عشق کی شمع دل ہر سنگ ہے

    سخت جانی میری اور ظالم ترے سنگیں دلی

    آہ مثل آسیا یہ سنگ اوپر سنگ ہے

    باپ کا ہے فخر وہ بیٹا کہ رکھتا ہو کمال

    دیکھ آئینے کو فرزند رشید سنگ ہے

    سر مرا تیرے قدم کے ساتھ یوں ہے پیش رو

    ٹھوکروں میں جس طرح سے رہگزر کا سنگ ہے

    اعتقاد مومن و کافر ہے رہبر ورنہ پھر

    کچھ نہیں دیر و حرم میں خاک ہے پاسنگ ہے

    یہ صدا گھر گھر کرے ہے آسیا پھر پھر مدام

    مشت گندم کے لیے چھانی کے اوپر سنگ ہے

    شیخ کی مسجد سے اے بیدارؔ کیا ہے تجھ کو کام

    سجدہ گہ اپنا صنم کے آستاں کا سنگ ہے

    مآخذ :
    • Deewan-e-Bedar

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY