خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا

شہزاد نیر

خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا

شہزاد نیر

MORE BYشہزاد نیر

    خاموش صداؤں سے نہ پیغام سے آیا

    وہ حسن مرے پاس کسی کام سے آیا

    آیا تو نظر آیا مجھے خار ضرورت

    ہائے وہ گل خاص رہ عام سے آیا

    جب رات ڈھلی یاد جگر چیر کے گزری

    ویسے تو خیال اس کا مجھے شام سے آیا

    آنچل سے ابھر آئے ہیں جوبن کے خم و پیچ

    اس شعر میں ابلاغ بھی ابہام سے آیا

    یہ پھول مرے قرب کے موسم نے کھلائے

    یہ رنگ ترے رخ پہ مرے نام سے آیا

    تکتا ہوں امارت کی فلک بوس عمارت

    افلاس مرے گھر میں اسی بام سے آیا

    شہرت جو ملی تجھ کو برے کام نے دی ہے

    جو نام ترے پاس ہے دشنام سے آیا

    کھٹکے سے کھٹک جائے نہ دل دار سو نیرؔ

    آرام گہ حسن میں آرام سے آیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY