کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں

بدیع الزماں خاور

کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں

بدیع الزماں خاور

MORE BYبدیع الزماں خاور

    کھڑا تھا کون کہاں کچھ پتا چلا ہی نہیں

    میں راستے میں کسی موڑ پر رکا ہی نہیں

    ہوائیں تیز تھیں اتنی کہ ایک دل کے سوا

    کوئی چراغ سر رہ گزر جلا ہی نہیں

    کہاں سے خنجر و شمشیر آزماتا میں

    مرے عدو سے مرا سامنا ہوا ہی نہیں

    دکھوں کی آگ میں ہر شخص جل کے راکھ ہوا

    کسی غریب کے دل سے دھواں اٹھا ہی نہیں

    ہمارا شہر تمنا بہت حسیں تھا مگر

    اجڑ کے رہ گیا ایسا کہ پھر بسا ہی نہیں

    وہ بن گیا مرا ناقد پتا نہیں کیوں کر

    مرا کلام تو اس نے کبھی پڑھا ہی نہیں

    میں اپنے دور کی آواز تھا مگر خاورؔ

    کسی نے بزم جہاں میں مجھے سنا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY