خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

آزاد گلاٹی

خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

آزاد گلاٹی

MORE BYآزاد گلاٹی

    خلائے ذہن کے گنبد میں گونجتا ہوں میں

    خود اپنے عہد گزشتہ کی اک صدا ہوں میں

    سمیٹ لاتا ہوں موتی تمہاری یادوں کے

    جو خلوتوں کے سمندر میں ڈوبتا ہوں میں

    تمہیں بھی مجھ میں نہ شاید وہ پہلی بات ملے

    خود اپنے واسطے اب کوئی دوسرا ہوں میں

    جو دے سکو تو خنک سائے دو محبت کے

    خیال و خواب کی دنیا میں جل رہا ہوں میں

    وہ خود مجھی میں کہیں کھو گیا نہ ہو آزادؔ

    جسے خلائے زمانہ میں ڈھونڈتا ہوں میں

    مآخذ
    • کتاب : Dasht-e-Sada (Pg. 117)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY