خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

سرشار صدیقی

خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

سرشار صدیقی

MORE BYسرشار صدیقی

    خلوت ذات ہے اور انجمن آرائی ہے

    بزم سی بزم ہے تنہائی سی تنہائی ہے

    وہ ہے خاموش مگر اس کے سکوت لب پر

    رقص کرتا ہوا اک عالم گویائی ہے

    جب اندھیرے مری آنکھوں کا لہو چاٹ چکے

    تب ان آنکھوں میں رفاقت کی چمک آئی ہے

    اب خدا اس کو بنایا ہے تو یاد آتا ہے

    جیسے اس بت سے تو برسوں کی شناسائی ہے

    نیند ٹوٹی ہے تو احساس زیاں بھی جاگا

    دھوپ دیوار سے آنگن میں اتر آئی ہے

    پس دیوار ابد دیکھ رہا ہوں اے دوست

    میری آنکھوں میں مرے عہد کی بینائی ہے

    میرے چہرے پہ ہے وہ عکس کہ آئینۂ ذات

    کبھی میرا کبھی خود اپنا تماشائی ہے

    میرے سچ میں تو کوئی کھوٹ نہیں تھا سرشارؔ

    پھر یہ کیوں زہر سے تریاک کی بو آئی ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Monthly Usloob (Pg. 373)
    • Author : Mushfiq Khawaja
    • مطبع : Usloob 3D 9—26 Nazimabad karachi   180007 (Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6)
    • اشاعت : Oct. õ Nov. 1983,Issue No. 5-6

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY