خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے

کوثر صدیقی

خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے

کوثر صدیقی

MORE BYکوثر صدیقی

    خندۂ گل میں بھی پوشیدہ فغاں ہو جیسے

    شاخ گل انجمن نوحہ گراں ہو جیسے

    آپ نے کہہ دی وہی بات جو منہ پر تھی مرے

    آپ کے منہ میں بھی میری ہی زباں ہو جیسے

    ایسا لگتا ہے شہنشاہ جہانگیر ہوں میں

    ملکۂ عالیہ تم نور جہاں ہو جیسے

    کچھ عجب طرز کی اس سال جلی ہے ہولی

    زندہ لاشوں کی چتاؤں کا دھواں ہو جیسے

    وقت کے دشت مسافت کا ہے موسم کیسا

    سب کی آنکھوں میں بھرا تلخ دھواں ہو جیسے

    بجھتی شمعوں کا بھی ماتم نہیں کرتا کوئی

    زندگی انجمن زندہ دلاں ہو جیسے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY