خراب ہو گیا جب میرے جسم کا کاغذ

سنجے مصرا شوق

خراب ہو گیا جب میرے جسم کا کاغذ

سنجے مصرا شوق

MORE BYسنجے مصرا شوق

    خراب ہو گیا جب میرے جسم کا کاغذ

    تو میری روح نے پہنا ہے دوسرا کاغذ

    گزار دی ہے یوں ہی جوڑتے گھٹاتے ہوئے

    سوال حل نہ ہوئے اور بھر گیا کاغذ

    غریب شہر ہوں گھر ہے نہ کاروبار کوئی

    کبھی بچھاتا کبھی اوڑھتا رہا کاغذ

    حروف رقص کناں ہو گئے اچانک ہی

    لبوں سے اپنے جو اس نے کبھی چھوا کاغذ

    وہ دن بھی یاد ہیں ہم کو تمہارے ہجراں میں

    ہمارے بیچ میں جب رابطہ بنا کاغذ

    اسے جو ناؤ بنایا تو غرق آب ہوا

    کچھ اور دیر تو لہروں سے کھیلتا کاغذ

    عدالتوں میں بھی جھوٹی گواہیوں کے لئے

    تمام عمر زباں کھولتا رہا کاغذ

    فتور ذہن میں بھر کر ہوس کے نیزوں پر

    اچھالتا رہا ہم کو حرام کا کاغذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY