خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں

اجمل صدیقی

خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں

اجمل صدیقی

MORE BYاجمل صدیقی

    خط جو تیرے نام لکھا، تکیے کے نیچے رکھتا ہوں

    جانے کس امید پہ یہ تعویذ دبا کے رکھتا ہوں

    تاکہ اک اک لفظ مرے لہجے میں تجھ سے بات کرے

    خط کے ہر ہر لفظ کو خط پر خوب پڑھا کے رکھتا ہوں

    آس پہ تیری بکھرا دیتا ہوں کمرے کی سب چیزیں

    آس بکھرنے پر سب چیزیں خود ہی اٹھا کے رکھتا ہوں

    ایک ذرا سا درد ملا اور کاغذ کالے کر ڈالے

    ایک ذرا سے ہجر پہ اک ہنگامہ مچا کے رکھتا ہوں

    عنبر، مشکیں، روح بہاراں جان فزا و موج بہشت

    اک تیری نسبت سے کیا کیا نام صبا کے رکھتا ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY