خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

اختر شیرانی

خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

اختر شیرانی

MORE BYاختر شیرانی

    خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے

    کبھی آنکھوں میں آنسو ہیں کبھی لب پر ہنسی بھی ہے

    انہی غم کی گھٹاؤں سے خوشی کا چاند نکلے گا

    اندھیری رات کے پردے میں دن کی روشنی بھی ہے

    یوں ہی تکمیل ہوگی حشر تک تصویر ہستی کی

    ہر اک تکمیل آخر میں پیام نیستی بھی ہے

    یہ وہ ساغر ہے صہبائے خودی سے پر نہیں ہوتا

    ہمارے جام ہستی میں سرشک بے خودی بھی ہے

    RECITATIONS

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خالد مبشر

    خیالستان ہستی میں اگر غم ہے خوشی بھی ہے خالد مبشر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY