کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

صابر وسیم

کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

صابر وسیم

MORE BY صابر وسیم

    کھلے ہوئے ہیں پھول ستارے دریا کے اس پار

    اچھے لوگ بسے ہیں سارے دریا کے اس پار

    مہکی راتیں دوست ہوائیں پچھلی شب کا چاند

    رہ گئے سب خوش خواب نظارے دریا کے اس پار

    بس یہ سوچ کے سرشاری ہے اب بھی اپنے لیے

    بہتے ہیں خوشبو کے دھارے دریا کے اس پار

    شام کو زندگی کرنے والے رنگ برنگے پھول

    پھول وہ سارے رہ گئے پیارے دریا کے اس پار

    یوں لگتا ہے جیسے اب بھی رستہ تکتے ہیں

    گئے زمانے ریت کنارے دریا کے اس پار

    گونجتی ہے اور لوٹ آتی ہے اپنی ہی آواز

    آخر کب تک کوئی پکارے دریا کے اس پار

    دہکی ہوئی اک آگ ہے صابرؔ اپنے سینے میں

    جاتے نہیں پر اس کے شرارے دریا کے اس پار

    مآخذ:

    • کتاب : Asaleeb (Pg. 604)

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY