خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

پیرزادہ قاسم

خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم

    خاکساری جو بڑھی خاک بسر ہو گئے ہم

    اپنے ہونے کا یقیں آ گیا بجھتے بجھتے

    بے کراں شب میں جو امکان سحر ہو گئے ہم

    نامرادی میں نشاط غم امکاں تھا عجب

    ہم کبھی شاد نہ ہو پاتے مگر ہو گئے ہم

    ہم نہیں کچھ بھی مگر معرکۂ عشق کی خیر

    جیت مقسوم ہوئی اس کی جدھر ہو گئے ہم

    جادۂ عشق ترا حق تو ادا کس سے ہوا

    خیر اتنا ہے کہ آغاز سفر ہو گئے ہم

    زندگی ایسے گزاری کہ سبک سر نہ ہوئے

    یعنی اس دور میں جینے کا ہنر ہو گئے ہم

    تیشہ بھی ہم تھے یقیں ہم تھے تو زنداں کیا چیز

    یہی ہونا تھا سو دیوار میں در ہو گئے ہم

    دست قدرت ہمیں کچھ اور ہے بننا سو بنا

    چھوڑ یہ ذکر کہ قطرے سے گہر ہو گئے ہم

    RECITATIONS

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    خرمن جاں کے لیے خود ہی شرر ہو گئے ہم پیرزادہ قاسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY