خزاں کا قرض تو اک اک درخت پر ہے یہاں

اقبال اشہر قریشی

خزاں کا قرض تو اک اک درخت پر ہے یہاں

اقبال اشہر قریشی

MORE BYاقبال اشہر قریشی

    خزاں کا قرض تو اک اک درخت پر ہے یہاں

    یہ اور بات کہ ہر شاخ بار ور ہے یہاں

    جو سوچ سکتا ہے وہ ذہن جل رہا ہے ابھی

    جو دیکھ سکتی ہے وہ آنکھ خوں میں تر ہے یہاں

    سنے گا کون ان آنکھوں کی بے صدا فریاد

    سماعتوں کا تو انداز ہی دگر ہے یہاں

    ستایا آج مناسب جگہ پہ بارش نے

    اسی بہانے ٹھہر جائیں اس کا گھر ہے یہاں

    حصار جسم سے باہر بھی زندگی ہے مجھے

    یہ اور بات کہ احساس معتبر ہے یہاں

    مأخذ :
    • کتاب : Be Sada Fariyad (Pg. 65)
    • Author : Iqbal Ashhar Qureshi
    • مطبع : Sarvottam Marketing in Corporation Vivekanand Nagar Kamti, Mumbai (2012)
    • اشاعت : 2012

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY