خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

پیرزادہ قاسم

خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    خود ہی روٹھے ہو تو پھر اس کا مداوا کیوں ہو

    ہم نہ کہتے تھے کہ ہاں رنجش بے جا کیوں ہو

    ہر بشر اپنی پریشاں نظری کے با وصف

    خود تماشا ہے تو پھر محو تماشا کیوں ہو

    دل کے بہلانے کو امید کرم رکھتے ہیں

    ورنہ یہ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ایسا کیوں ہو

    دشت جو میری تمنا نہ کرے دشت نہیں

    خاک جس میں نہ اڑے میری وہ صحرا کیوں ہو

    ایک لحظہ بھی جو پاؤں غم ہستی سے فراغ

    اک نیا رنج پکارے ہے کہ تنہا کیوں ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY