خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

حسیب سوز

خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

حسیب سوز

MORE BY حسیب سوز

    خود کو اتنا جو ہوا دار سمجھ رکھا ہے

    کیا ہمیں ریت کی دیوار سمجھ رکھا ہے

    ہم نے کردار کو کپڑوں کی طرح پہنا ہے

    تم نے کپڑوں ہی کو کردار سمجھ رکھا ہے

    میری سنجیدہ طبیعت پہ بھی شک ہے سب کو

    بعض لوگوں نے تو بیمار سمجھ رکھا ہے

    اس کو خود داری کا کیا پاٹھ پڑھایا جائے

    بھیک کو جس نے پرسکار سمجھ رکھا ہے

    تو کسی دن کہیں بے موت نہ مارا جائے

    تو نے یاروں کو مددگار سمجھ رکھا ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    حسیب سوز

    حسیب سوز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY