خود کو جس کے لیے بھلاتی ہوں

رخشاں ہاشمی

خود کو جس کے لیے بھلاتی ہوں

رخشاں ہاشمی

MORE BY رخشاں ہاشمی

    خود کو جس کے لیے بھلاتی ہوں

    کیا اسے بھی میں یاد آتی ہوں

    اس کا چہرہ کتاب جیسا ہے

    روز پڑھتی ہوں مسکراتی ہوں

    ویسے آنکھیں اداس رہتی ہیں

    دیکھ کر اس کو جگمگاتی ہوں

    جانتی ہوں ہوا مٹا دے گی

    میں گھروندے مگر بناتی ہوں

    گھر کی دیوار ہے سکھی میری

    میں اسی سے گپیں لڑاتی ہوں

    آپ اخبار دیکھیے تب تک

    میں ابھی چائے لے کر آتی ہوں

    سامنے اپنے آئنہ رکھ کر

    روز اپنی ہنسی اڑاتی ہوں

    وہ مرا اعتبار ہے رخشاںؔ

    جس سے اکثر فریب کھاتی ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY