خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھی

فضیل جعفری

خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھی

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    خود لفظ پس لفظ کبھی دیکھ سکے بھی

    کاغذ کی یہ دیوار کسی طرح گرے بھی

    کس درد سے روشن ہے سیہ خانۂ ہستی

    سورج نظر آتا ہے ہمیں رات گئے بھی

    وہ ہم کہ غرور صف اعدا شکنی تھے

    آخر سر بازار ہوئے خوار بکے بھی

    بہتی ہیں رگ و پے میں دو آبے کی ہوائیں

    اک اور سمندر ہے سمندر سے پرے بھی

    اخلاق و شرافت کا اندھیرا ہے وہ گھر میں

    جلتے نہیں معصوم گناہوں کے دیے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY