خود سے کتنا کیا دغا میں نے

اختر سعید

خود سے کتنا کیا دغا میں نے

اختر سعید

MORE BY اختر سعید

    خود سے کتنا کیا دغا میں نے

    ابھی سیکھی نہیں وفا میں نے

    نکلا چوہا پہاڑ کو کھودا

    جو کیا جو کہا سنا میں نے

    کھولیے کیوں دکھوں کے دفتر کو

    سوچنا بند کر دیا میں نے

    ہاں لگایا ہے ذکر عظمت پر

    زور سے ایک قہقہہ میں نے

    حاصل زیست ہے کہ دیکھا ہے

    سنبل و سبزہ و صبا میں نے

    زندگی زہر تھا اسے سقراط

    جرعہ جرعہ مگر پیا میں نے

    چھپ کے بیٹھا ہوں شرمساری سے

    کعبے سے دور لی ہے جا میں نے

    یہ تو تذلیل ہے شہادت کی

    کبھی مانگا نہ خوں بہا میں نے

    جب بڑھی اور شرم عریانی

    اوڑھ لی خاک کی قبا میں نے

    اپنے دل کو تو سی نہیں سکتا

    اپنے ہونٹوں کو سی لیا میں نے

    خوف سے بھاگ نکلا مجلس سے

    جب سنا ذکر کربلا میں نے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY