خود سے ملنے کے لئے بھیس بدل کر جانا

حیات وارثی

خود سے ملنے کے لئے بھیس بدل کر جانا

حیات وارثی

MORE BYحیات وارثی

    خود سے ملنے کے لئے بھیس بدل کر جانا

    آئنہ خانے میں جانا تو سنبھل کر جانا

    ایک پروانے کے جل بجھنے کا حاصل معلوم

    بزم سے شمع کی مانند پگھل کر جانا

    میرا مقصد تھا سنور جائیں وفا کی راہیں

    ورنہ دشوار نہ تھا راہ بدل کر جانا

    وادیٔ لمس میں چاہو جو مہک سانسوں کی

    موج صہبا کی طرح جام میں ڈھل کر جانا

    نبض کونین کو دھڑکن ہے عمل کی آہٹ

    میں نے اس راز کو ساحل سے نکل کر جانا

    دامن فقر میں سایہ ہے جہانگیری کا

    لیکن اکبر کی طرح دھوپ میں چل کر جانا

    اے حیاتؔ اپنے ہی احساس نے بڑھنے نہ دیا

    کتنا آسان تھا گرتوں کو کچل کر جانا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY