خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیا

کیفی وجدانی

خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیا

کیفی وجدانی

MORE BY کیفی وجدانی

    خود سے ملنے کے لیے خود سے گزر کر آیا

    کس قدر سخت مہم تھی کہ جو سر کر آیا

    لاش ہوتا تو ابھر آتا کی اک میں ہی کیا

    سطح پر کوئی بھی پتھر نہ ابھر کر آیا

    صرف دروازے تلک جا کے ہی لوٹ آیا ہوں

    ایسا لگتا ہے کہ صدیوں کا سفر کر آیا

    چاند قدموں پہ پڑا مجھ کو بلاتا ہی رہا

    میں ہی خود بام سے اپنے نہ اتر کر آیا

    مجھ کو آنا ہی تھا اک روز حقیقت کے قریب

    زندگی میں نہیں آیا تھا تو مر کر آیا

    مآخذ:

    • کتاب : ras-Rang(Mehfil-e-Adab) (Pg. 5)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY