خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

پروین کیف

خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

پروین کیف

MORE BYپروین کیف

    خدا بچائے محبت کی اس بلا سے بھی

    کہ درد دل نہیں جاتا کسی دوا سے بھی

    جلا رکھے ہیں مری زندگی میں سانسوں نے

    چراغ ایسے کہ بجھتے نہیں ہوا سے بھی

    مرے لئے مرا اللہ کون سا کم ہے

    مجھے تو کام نہیں ہے کسی خدا سے بھی

    چراغ راہ بنایا ہے تم نے کس کس کو

    کبھی ملے ہو محمد کے نقش پا سے بھی

    ہم اپنی جان اسی پر نثار کرتے ہیں

    ہمیں وہ قتل کرے چاہے جس ادا سے بھی

    اسی چمن میں جو میرا چمن ہے میرا چمن

    بہت سے پیڑ مرے خون کے ہیں پیاسے بھی

    ستم کسی پہ وہ کرتے نہیں ہمارے سوا

    جفا تو ہے یہ مگر کم نہیں وفا سے بھی

    دھڑکتے شعر سنے ہم نے بنت کیفؔ سے آج

    ملے ہم ایک محبت کی شاعرہ سے بھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY