خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

ڈاکٹر اعظم

خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

ڈاکٹر اعظم

MORE BYڈاکٹر اعظم

    خدا بھی جانتا ہے خوب جو مکار بیٹھے ہیں

    حرم میں سرنگوں کچھ قابل فی النار بیٹھے ہیں

    گھروں میں ساتھ بیٹھے ہیں سر بازار بیٹھے ہیں

    نقاب اپنوں کا اوڑھے آج کل اغیار بیٹھے ہیں

    محبت کی نظر میں جیت لی ہے ہم نے وہ بازی

    زمانے کی نظر میں ہم کہ جس کو ہار بیٹھے ہیں

    خطا ہو جائے ہم سے جو کوئی تو درگزر کرنا

    تمہاری بزم میں ہم آج پہلی بار بیٹھے ہیں

    زمیں سے یا فلک سے یا کہ اپنوں سے کہ غیروں سے

    بتائیں کس طرح کس کس سے ہم بیزار بیٹھے ہیں

    یہی جمہوریت کا نقص ہے جو تخت شاہی پر

    کبھی مکار بیٹھے ہیں کبھی غدار بیٹھے ہیں

    ادب کی محفلوں میں اب کہاں جم غفیر اعظمؔ

    یہاں دو چار بیٹھے ہیں وہاں دو چار بیٹھے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY