خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

علامہ اقبال

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

علامہ اقبال

MORE BYعلامہ اقبال

    دلچسپ معلومات

    ( بال جبریل)

    خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

    تو آب جو اسے سمجھا اگر تو چارہ نہیں

    طلسم گنبد گردوں کو توڑ سکتے ہیں

    زجاج کی یہ عمارت ہے سنگ خارہ نہیں

    خودی میں ڈوبتے ہیں پھر ابھر بھی آتے ہیں

    مگر یہ حوصلۂ مرد ہیچ کارہ نہیں

    ترے مقام کو انجم شناس کیا جانے

    کہ خاک زندہ ہے تو تابع ستارہ نہیں

    یہیں بہشت بھی ہے، حور و جبرئیل بھی ہے

    تری نگہ میں ابھی شوخی نظارہ نہیں

    مرے جنوں نے زمانے کو خوب پہچانا

    وہ پیرہن مجھے بخشا کہ پارہ پارہ نہیں

    غضب ہے عین کرم میں بخیل ہے فطرت

    کہ لعل ناب میں آتش تو ہے شرارہ نہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    نامعلوم

    نامعلوم

    غلام علی

    غلام علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY