کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

اجمل صدیقی

کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

اجمل صدیقی

MORE BYاجمل صدیقی

    کھل کے برسنا اور برس کر پھر کھل جانا دیکھا ہے

    ہم سے پوچھو!! ان آنکھوں کا ایک زمانہ دیکھا ہے

    تم نے کیسے مان لیا وہ تھک کر بیٹھ گیا ہوگا

    تم نے تو خود اپنی آنکھوں سے وہ دیوانا دیکھا ہے

    منزل تک پہنچیں کہ نہ پہنچیں راہ مگر اپنی ہوگی

    تو رہنے دے واعظ تیرا راہ بتانا دیکھا ہے

    دھول کا اک ذرہ نہ اڑے آواز کرے پرچھائیں بھی

    موت بھی آ کر مرتی نہیں تھی وہ ویرانہ دیکھا ہے

    گلشن سے ہم سیکھ نہ پائے وقتی خوشیوں کو جینا

    جبکہ ہم نے فصل گل کا آنا جانا دیکھا ہے

    دل تو سادہ ہے تیری ہر بات کو سچا مانتا ہے

    عقل نے باتیں کرتے تیرا آنکھ چرانا دیکھا ہے

    لفظ دوا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی کچھ پرہیز بھی ہے

    لفظ کے باعث پل میں کھونا پل میں پانا دیکھا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY