کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

فضا ابن فیضی

کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

فضا ابن فیضی

MORE BYفضا ابن فیضی

    کھلا نہ مجھ سے طبیعت کا تھا بہت گہرا

    ہزار اس سے رہا رابطہ بہت گہرا

    بس اس قدر کہ یہ ہجرت کی عمر کٹ جائے

    نہ مجھ غریب سے رکھ سلسلہ بہت گہرا

    سب اپنے آئینے اس نے مجھی کو سونپ دیے

    اسے شکست کا احساس تھا بہت گہرا

    مجھے طلسم سمجھتا تھا وہ سرابوں کا

    بڑھا جو آگے سمندر ملا بہت گہرا

    شدید پیاس کے عالم میں ڈوبنے سے بچا

    قدح تو کیا مجھے قطرہ لگا بہت گہرا

    تو اس کی زد میں جو آیا تو ڈوب جائے گا

    بہ قدر آب ہے ہر آئنہ بہت گہرا

    ملیں گے راہ میں تجھ کو چراغ جلتے ہوئے

    کہیں کہیں ہے مرا نقش پا بہت گہرا

    تلاش معنی مقصود اتنی سہل نہ تھی

    میں لفظ لفظ اترتا گیا بہت گہرا

    جو بات جان سخن تھی وہی رہی اوجھل

    لیا تو اس نے مرا جائزہ بہت گہرا

    قدیم ہوتے ہوئے مجھ سے بھی جدید ہے وہ

    اثر ہے اس پہ مرے دور کا بہت گہرا

    فضاؔ ہمیں تو ہے کافی یہی خمار وجود

    ہے بے شراب بھی حاصل نشہ بہت گہرا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY