خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں

تاباں عبد الحی

خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    خوباں جو پہنتے ہیں نپٹ تنگ چولیاں

    ان کی سجوں کو دیکھ مریں کیوں نہ لولیاں

    ہونٹوں میں جم رہی ہے ترے آج کیوں دھری

    بھیجی تھیں کس نے رات کو پانوں کی ڈھولیاں

    جس دن سے انکھڑیاں تری اس کو نظر پڑیں

    بادام نے خجل ہو پھر آنکھیں نہ کھولیاں

    تارے نہیں فلک پہ تمہارے نثار کو

    لایا ہے موتیوں سے یہ بھر بھر کے جھولیاں

    سنبل کو پیچ و تاب عجب طرح کی ہوئی

    زلفیں جب ان نے جا کے گلستاں میں کھولیاں

    گلشن میں بحثنے کو تمہارے دہن کے ساتھ

    کھولا تھا منہ کو کلیوں نے پر کچھ نہ بولیاں

    تاباں قفس میں آج ہیں وے بلبلیں خموش

    کرتی تھیں کل جو باغ میں گل سے کلولیاں

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY