خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

فضیل جعفری

خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

فضیل جعفری

MORE BYفضیل جعفری

    خون پلکوں پہ سر شام جمے گا کیسے

    درد کا شہر جو اجڑا تو بسے گا کیسے

    روز و شب یادوں کے آسیب ستائیں گے کوئی

    شہر میں تجھ سے خفا ہو کے رہے گا کیسے

    دل جلا لیتے تھے ہم لوگ اندھیروں میں مگر

    دل بھی ان تیز ہواؤں میں جلے گا کیسے

    کس مصیبت سے یہاں تک ترے ساتھ آئے تھے

    راستہ تجھ سے الگ ہو کے کٹے گا کیسے

    آخر اس کو بھی ہے کچھ جعفریؔ دنیا کا خیال

    دیر تک رات گئے ساتھ رہے گا کیسے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY