خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

پیرزادہ قاسم

خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

پیرزادہ قاسم

MORE BYپیرزادہ قاسم

    خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا

    پھر مجھے دے دیا گیا ایک دیا بجھا ہوا

    اپنے تو عہد شوق کے مرحلے سب عزیز تھے

    ہم کو وصال سا لگا ایک دیا بجھا ہوا

    ایک ہی داستان شب ایک ہی سلسلہ تو ہے

    ایک دیا جلا ہوا ایک دیا بجھا ہوا

    شعلہ ہوا نژاد تھا پھر بھی ہوا کے ہاتھ نے

    بس یہی فیصلہ لکھا ایک دیا بجھا ہوا

    محفل رنگ و نور کی پھر مجھے یاد آ گئی

    پھر مجھے یاد آ گیا ایک دیا بجھا ہوا

    مجھ کو نشاط سے فزوں رسم وفا عزیز ہے

    میرا رفیق شب رہا ایک دیا بجھا ہوا

    درد کی کائنات میں مجھ سے بھی روشنی رہی

    ویسے میری بساط کیا ایک دیا بجھا ہوا

    سب مری روشنئ جاں حرف سخن میں ڈھل گئی

    اور میں جیسے رہ گیا ایک دیا بجھا ہوا

    RECITATIONS

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    پیرزادہ قاسم

    خون سے جب جلا دیا ایک دیا بجھا ہوا پیرزادہ قاسم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY