خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

عفت زریں

خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

عفت زریں

MORE BYعفت زریں

    خواب آنکھوں سے زباں سے ہر کہانی لے گیا

    مختصر یہ ہے وہ میری زندگانی لے گیا

    پھول سے موسم کی برساتیں ہواؤں کی مہک

    اب کے موسم کی وہ سب شامیں سہانی لے گیا

    دے گیا مجھ کو سرابوں کا سکوت مستقل

    میرے اشکوں سے وہ دریا کی روانی لے گیا

    خاک اب اڑنے لگی میدان صحرا ہو گئے

    ریت کا طوفان دریاؤں سے پانی لے گیا

    کون پہچانے گا زریںؔ مجھ کو اتنی بھیڑ میں

    میرے چہرے سے وہ اپنی ہر نشانی لے گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY