خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا

فاطمہ حسن

خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا

فاطمہ حسن

MORE BYفاطمہ حسن

    خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا

    قرض دل کیا قرض جاں بھی آج چکتا کر دیا

    غیر کو الزام کیوں دیں دوست سے شکوہ نہیں

    اپنے ہی ہاتھوں کیا جو کچھ بھی جیسا کر دیا

    کچھ خبر بھی ہو نہ پائی اس دیار عشق میں

    کون یوسف ہو گیا کس کو زلیخا کر دیا

    دل کے دروازے پہ یادیں شور جب بننے لگیں

    دھڑکنوں کا نام دے کر بوجھ ہلکا کر دیا

    کتنے اچھے لوگ تھے کیا رونقیں تھیں ان کے ساتھ

    جن کی رخصت نے ہمارا شہر سونا کر دیا

    اپنے پیاروں کو بچایا درد کی ہر موج سے

    آنکھ میں سیلاب روکا دل کو دریا کر دیا

    پھول، پودے، پیڑ، بچے گھر کا آنگن اور تم

    خواہشوں کے نام پر ان سب کو یکجا کر دیا

    غم نہیں لا حاصلی کا عشق کا حاصل ہے یہ

    اے حساب زندگی تجھ کو تو پورا کر دیا

    ہجر سے ہجرت تلک ہر دکھ سے سمجھوتا کیا

    بھیڑ میں رہ کے بھی میں نے خود کو تنہا کر دیا

    یہ زمیں حسرتؔ کی ہے اس پر قدم رکھا تو پھر

    اتنی جرأت ہو گئی عرض تمنا کر دیا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    RECITATIONS

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    فاطمہ حسن

    خواب گروی رکھ دیے آنکھوں کا سودا کر دیا فاطمہ حسن

    مأخذ :
    • کتاب : yadain bhi ab khwab hoin (Pg. 75)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY