خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

شاہین عباس

خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    خواب کھلنا ہے جو آنکھوں پہ وہ کب کھلتا ہے

    پھر بھی کہیے کہ بس اب کھلتا ہے اب کھلتا ہے

    باب رخصت سے گزرتا ہوں سو ہوتی ہے شناخت

    جس قدر دوش پہ سامان ہے سب کھلتا ہے

    یہ اندھیرا ہے اور ایسے ہی نہیں کھلتا یہ

    دیر تک روشنی کی جاتی ہے تب کھلتا ہے

    میری آواز پہ کھلتا تھا جو در پہلے پہل

    میں پریشاں ہوں کہ خاموشی پہ اب کھلتا ہے

    اک مکاں کی بڑی تشویش ہے رہ گیروں کو

    وہ جو برسوں میں نہیں کھلتا تو کب کھلتا ہے

    اب کھلا ہے کہ چراغوں کو یہاں رکھا جائے

    یہ وہ رخ ہے جہاں دروازۂ شب کھلتا ہے

    اس نے کھلنے کی یہی شرط رکھی ہو جیسے

    مجھ میں گرہیں سی لگا جاتا ہے جب کھلتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY