خواب سے پردہ کرو دیکھو مت

محبوب خزاں

خواب سے پردہ کرو دیکھو مت

محبوب خزاں

MORE BYمحبوب خزاں

    دلچسپ معلومات

    شمارہ ,120 مئی 1981

    خواب سے پردہ کرو دیکھو مت

    اب اگر دیکھ سکو دیکھو مت

    گرتے شہتیروں کے جنگل ہیں یہ شہر

    چپ رہو چلتے رہو دیکھو مت

    جھوٹ سچ دونوں ہی آئینے ہیں

    اس طرف کوئی نہ ہو دیکھو مت

    حسن کیا ایک چمن اک کہرام

    تیز و آہستہ چلو دیکھو مت

    پنکھڑی ایک پرت اور پرت

    کیوں بکھیڑے میں پڑھو دیکھو مت

    ہر کلی ایک بھنور اک بادل

    کھیل میں کھیل نہ ہو دیکھو مت

    یہ پرانی یہ انوکھی خوشبو

    کچھ دن آوارہ پھرو دیکھو مت

    ہر طرف دیکھنے والی آنکھیں

    ان کے سائے سے بچو دیکھو مت

    کم لباسی ہو گلہ یا اصرار

    بے خبر جیسے رہو دیکھو مت

    عافیت اس میں ہے غافل گزرو

    مت نگاہوں سے گرو دیکھو مت

    کینچلی ہٹ گئی زندہ ریشم

    پھر یہ کہتا ہے ہٹو دیکھو مت

    دیکھتے دیکھتے منظر ہے کچھ اور

    دھول آنکھوں میں بھرو دیکھو مت

    سطح کے نیچے ہے کیا جانے کون

    لہر کی لے پہ بڑھو دیکھو مت

    ایک ہی جل ہے یہاں مایا جل

    پیاس کے جال بنو دیکھو مت

    مأخذ :
    • کتاب : Shabkhoon (Urdu Monthly) (Pg. 1672)
    • Author : Shamsur Rahman Faruqi
    • مطبع : Shabkhoon Po. Box No.13, 313 rani Mandi Allahabad (June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II)
    • اشاعت : June December 2005áIssue No. 293 To 299âPart II

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے