خوابوں کا نشہ ہے نہ تمنا کا سلسلہ

ابو محمد سحر

خوابوں کا نشہ ہے نہ تمنا کا سلسلہ

ابو محمد سحر

MORE BYابو محمد سحر

    خوابوں کا نشہ ہے نہ تمنا کا سلسلہ

    اب رہ گیا ہے بس غم دنیا کا سلسلہ

    آباد دور دور ہیں ویراں سے کچھ مقام

    یہ بستیاں ہیں یا کوئی صحرا کا سلسلہ

    گردش میں جان و دل ہوں تو کیوں کر ملے سکوں

    یارو نہیں یہ ساغر و مینا کا سلسلہ

    دو ہی قدم چلے تھے کسی کی تلاش میں

    پھر مل سکا نہ نقش کف پا کا سلسلہ

    انساں کو سلسلوں سے ملے گی نجات کیا

    دنیا کے بعد ہے ابھی عقبیٰ کا سلسلہ

    اپنے وجود سے بھی گلے پر ہوا تمام

    اتنا بڑھا شکایت بے جا کا سلسلہ

    اک شہر تشنہ کام میں جیتے ہیں یوں سحرؔ

    آتا ہے روز خواب میں دریا کا سلسلہ

    مأخذ :
    • کتاب : Barg-e-Sahar (Pg. 93)
    • Author : Abu Mohammad Sahar
    • مطبع : Maktaba-e-Adab (2002)
    • اشاعت : 2002

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY