کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہے

نبیل احمد نبیل

کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہے

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    کرن کرن یہ کسی دیدۂ حسد میں ہے

    ہر اک چراغ ہمارا دھویں کی زد میں ہے

    جسے نکالا ہے ہندسوں سے زائچہ گر نے

    بقا ہماری اسی پانچ کے عدد میں ہے

    ہر ایک شخص کی قامت کو ناپ اور بتا

    مرے علاوہ یہاں کون اپنے قد میں ہے

    گھروں کے صحن کچھ ایسے سکڑ سمٹ گئے ہیں

    ہر ایک شخص مکیں جس طرح لحد میں ہے

    لگے ہیں شاخوں پہ جس دن سے پھول پات نئے

    ہر ایک پیڑ حویلی کا چشم بد میں ہے

    نبیلؔ ایسے ادھورے ہیں روز و شب جیسے

    مرا ازل کسی اندیشۂ ابد میں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY