کس بری ساعت سے خط لے کر گیا

شاد عظیم آبادی

کس بری ساعت سے خط لے کر گیا

شاد عظیم آبادی

MORE BYشاد عظیم آبادی

    کس بری ساعت سے خط لے کر گیا

    نامہ بر اب تک نہ آیا مر گیا

    جاتے ہی دل اس گلی میں مر گیا

    مرنے والا بے وفائی کر گیا

    دل تو جانے کو گیا لیکن مجھے

    اس بھری محفل میں رسوا کر گیا

    حسرتیں تھیں جینے والی جی گئیں

    مرنے والا تھا دل اپنا مر گیا

    غم کی لذت ابتدا میں تھی مگر

    اس قدر کھایا کہ اب جی بھر گیا

    ہر نوالہ اس کا اب تو تلخ ہے

    عمر نعمت تھی مگر جی بھر گیا

    کیا کہوں احوال اٹھتی بزم کا

    پہلے مینا بعد کو ساغر گیا

    دل نے اک دن بھی نہ دیکھا تجھ کو آہ

    اس گلی تک خواب میں اکثر گیا

    مرنے والے دل تجھے اب کیا کہوں

    خیر بخشا میں نے جو کچھ کر گیا

    کیا کہوں ان آنسوؤں کا زور و شور

    آنکھیں جھپکی تھیں کہ چلو بھر گیا

    دل گلہ کرتا تھا خوب اس شوخ کا

    تذکرہ محشر کا سن کر ڈر گیا

    جس جگہ دارا کو بھیجا تھا وہیں

    کچھ دنوں کے بعد اسکندر گیا

    جس کا کہلاتا ہے واں تھی کیا کمی

    اے گدا کیوں مانگنے دردر گیا

    دل نے سبقت کی حواس و صبر پر

    پہلے سلطاں بعد کو لشکر گیا

    منہ سے نکلا تھا کہ پہنچا عرش پر

    نالۂ دل نام اونچا کر گیا

    دل یہ امڈا مے سے خالی دیکھ کر

    جام اشکوں سے لبالب بھر گیا

    گر نہ جائے خاک پر قطرہ کوئی

    بس بس اے ساقی کہ ساغر بھر گیا

    مے کشو ماتم کرو اب شادؔ کا

    ہائے کیا مے خوار رحلت کر گیا

    شادؔ کیا کچھ کم ہیں دو کم ساٹھ سال

    زندگی سے بس دل اپنا بھر گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY