کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

معین شاداب

کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

معین شاداب

MORE BYمعین شاداب

    کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

    یہ سنگ ریزے پلک سے اٹھانے پڑتے ہیں

    بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

    بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں

    یہ بات اس سے پتا کر جو عشق جانتا ہو

    پلوں کی راہ میں کتنے زمانہ پڑتے ہیں

    ہر ایک پیڑ کا سایا نہیں ملا کرتا

    بلا غرض بھی تو پودے لگانے پڑتے ہیں

    کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے

    یہ کپڑے کمرے کے اندر سکھانے پڑتے ہیں

    کہاں سے لاؤ گے تم اس قدر جبین نیاز

    قدم قدم پہ یہاں آستانہ پڑتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY