کس کی اس تک رسائی ہوتی ہے

حقیر

کس کی اس تک رسائی ہوتی ہے

حقیر

MORE BY حقیر

    کس کی اس تک رسائی ہوتی ہے

    ہاں مگر جس کی آئی ہوتی ہے

    یار ہم سے سیاہ بختوں کی

    زلف تک کب رسائی ہوتی ہے

    خوب مل کر گلے سے رو لینا

    اس سے دل کی صفائی ہوتی ہے

    ڈوبتی ہے ہماری کشتئ دل

    آپ سے آشنائی ہوتی ہے

    شور ہے الفراق کا ہر دم

    ہم سے ان سے جدائی ہوتی ہے

    لشکر غم کی کشور دل پر

    رات دن اب چڑھائی ہوتی ہے

    ان کی محفل میں جاتے ڈرتا ہوں

    واں لگائی بجھائی ہوتی ہے

    اس کے در پر حقیرؔ تم بھی چلو

    وہیں مشکل کشائی ہوتی ہے

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY