کس قدر اضطراب ہے یارو

دانش فراہی

کس قدر اضطراب ہے یارو

دانش فراہی

MORE BYدانش فراہی

    کس قدر اضطراب ہے یارو

    زندگی اک عذاب ہے یارو

    دل مرا صاف آئنہ کی طرح

    ایک سادہ کتاب ہے یارو

    میں ہوں ناکام عشق میں لیکن

    کیا کوئی کامیاب ہے یارو

    جب سے دیکھا ہے اس نے ہنس کے مجھے

    دل کی حالت خراب ہے یارو

    غم جاناں تو راحت دل ہے

    فکر دنیا عذاب ہے یارو

    اس نے شاید کیا ہے یاد مجھے

    دل میں کیوں اضطراب ہے یارو

    پوچھتے کیا ہو اس کا نقش و نگار

    آپ اپنا جواب ہے یارو

    سن سکوں گا نہ داستان عشق

    اب کہاں مجھ میں تاب ہے یارو

    کیا کرے گا کوئی خراب اسے

    جو ازل سے خراب ہے یارو

    کچھ بتاؤ کہ آج دانشؔ پر

    کیوں ستم بے حساب ہے یارو

    مآخذ:

    • کتاب : Danish Kada (Pg. 82)
    • Author : Danish Farahi
    • مطبع : Riyaz Ahmed Farahi, Ramleela Maidan, Saraimeer Azamgarh (2015)
    • اشاعت : 2015

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY