کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

وصی شاہ

کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

وصی شاہ

MORE BYوصی شاہ

    کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

    یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے

    کس کا اب ہاتھ رکھ کے سینے پر

    دل کی دھڑکن سنایا کرتے تھے

    ہم جہاں چائے پینے جاتے تھے

    کیا وہاں اب بھی آیا کرتے تھے

    کون ہے اب کہ جس کے چہرے پر

    اپنی پلکوں کا سایہ کرتے تھے

    کیوں مرے دل میں رکھ نہیں دیتے

    کس لیے غم اٹھایا کرتے تھے

    فون پر گیت جو سناتے تھے

    اب وہ کس کو سنایا کرتے تھے

    آخری میں اس کو لکھا ہے

    تم مجھے یاد آیا کرتے تھے

    کس قدر ظلم ڈھایا کرتے تھے

    یہ جو تم بھول جایا کرتے تھے

    RECITATIONS

    وصی شاہ

    وصی شاہ,

    وصی شاہ

    Kis qadar zulm dhaya karte ho وصی شاہ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے