کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے

مظہر امام

کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے

مظہر امام

MORE BY مظہر امام

    کس سمت جا رہا ہے زمانہ کہا نہ جائے

    اکتا گئے ہیں لوگ فسانہ کہا نہ جائے

    اپنا مکاں اجاڑ کے صحراؤں کی طرف

    وہ شخص کیوں ہوا ہے روانہ کہا نہ جائے

    لمحوں کی طرح گزری ہیں صدیاں تو بارہا

    اک پل بنا ہے کیسے زمانہ کہا نہ جائے

    شعلے بنے ہیں لفظ تو کانٹا ہوئی زباں

    اب کیا کریں جو تیرا فسانہ کہا نہ جائے

    ہے آنکھ افق پہ برف کی صورت جمی ہوئی

    شب ہوگی کب سحر کا نشانہ کہا نہ جائے

    کہنے کو یہ غزل ہے مگر کیا غزل جسے

    نوحہ کہا نہ جائے ترانہ کہا نہ جائے

    مآخذ:

    • Book: paalkii kahkashaa.n (Pg. 156)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY