کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

فرید جاوید

کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

فرید جاوید

MORE BY فرید جاوید

    کس سے وفا کی ہے امید کون وفا شعار ہے

    اے مرے بے قرار دل کس لیے بے قرار ہے

    سن تو رہے ہیں دیر سے شور بہت بہار کا

    جانے کہاں کھلے ہیں پھول جانے کہاں بہار ہے

    کیوں نہ ترے خیال میں زمزمہ خواں گزر چلیں

    یوں بھی ہماری راہ میں گردش روزگار ہے

    رات سے ہم نہیں اداس رات اداس ہی سہی

    رات تو صبح کے لیے وقفۂ انتظار ہے

    اب بھی مذاق درد سے میری شبوں میں ہے گداز

    میرے لبوں پہ آج بھی نغمۂ حسن یار ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY