کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

غلام بھیک نیرنگ

کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

غلام بھیک نیرنگ

MORE BYغلام بھیک نیرنگ

    کس طرح واقف ہوں حال عاشق جاں باز سے

    ان کو فرصت ہی نہیں ہے کاروبار ناز سے

    میرے درد دل سے گویا آشنا ہیں چوب و تار

    اپنے نالے سن رہا ہوں پردہ ہائے ساز سے

    ذرہ ذرہ ہے یہاں اک کتبۂ سر الست

    آپ ہی واقف نہیں ہیں رسم خط راز سے

    دل گئے ایماں گئے عقلیں گئیں جانیں گئیں

    تم نے کیا کیا کر دکھایا اک نگاہ ناز سے

    آہ! کل تک وہ نوازش! آج اتنی بے رخی

    کچھ تو نسبت چاہئے انجام کو آغاز سے

    مأخذ :
    • کتاب : Intekhabe Kalam (Pg. 64)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY