کس وہم میں اسیر ترے مبتلا ہوئے

حمید جالندھری

کس وہم میں اسیر ترے مبتلا ہوئے

حمید جالندھری

MORE BYحمید جالندھری

    کس وہم میں اسیر ترے مبتلا ہوئے

    کب اہل شوق دام وفا سے رہا ہوئے

    آزاد ہو کے اور بھی بے دست و پا ہوئے

    کس درد لا علاج میں ہم مبتلا ہوئے

    منڈلا رہے تھے جن کے سروں پر کلاغ و بوم

    وہ فیضیاب سایۂ بال ہما ہوئے

    دل دادگان بادیۂ صرصر و سموم

    شہزادگان ملک نسیم و صبا ہوئے

    کرتے نہ تھے جو ساحل و دریا میں امتیاز

    کشتی بھنور میں آئی تو وہ ناخدا ہوئے

    رستہ دکھا سکا نہ جنہیں نور آفتاب

    جلنے لگے چراغ تو وہ رہنما ہوئے

    پا مردئ یقیں سے جو محروم ہیں وہ لوگ

    اپنے رفیق راہ ہوئے بھی تو کیا ہوئے

    کس شان سے گئے ہیں شہیدان کوئے یار

    قاتل بھی ہاتھ اٹھا کے شریک دعا ہوئے

    یکسانئ حیات سے گھبرا گیا ہے دل

    مدت گزر گئی کوئی طوفاں بپا ہوئے

    کوشش تھی فرض ہم نے بھی کی لیکن اس کے بعد

    اپنے تمام کام سپرد خدا ہوئے

    مأخذ :
    • کتاب : Shaam e Sehra (Pg. 192)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY